مواد پر جائیں مواد پر جائیں
ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 میں 3 اہم مرحلے
تجزیہ

ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 میں 3 اہم مرحلے

ایل بی ڈبلیو، یعنی وکٹ کے سامنے ٹانگ، اس وقت دی جاتی ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بیٹر کے جسم سے ٹکرانے کے بعد امپائر کے مطابق وکٹ کو ضرور لگتی، گیند پہلے بلے سے نہ لگی ہو، اور پچنگ و امپیکٹ کے مقررہ تقاض...

18 اکتوبر، 2026 5 min read

ایل بی ڈبلیو قانون: 2026 میں 3 اہم مرحلے

ایل بی ڈبلیو، یعنی وکٹ کے سامنے ٹانگ، اس وقت دی جاتی ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بیٹر کے جسم سے ٹکرانے کے بعد امپائر کے مطابق وکٹ کو ضرور لگتی، گیند پہلے بلے سے نہ لگی ہو، اور پچنگ و امپیکٹ کے مقررہ تقاضے پورے ہوں۔ کرکٹ میں ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ ہر ٹانگ پر لگی گیند ایل بی ڈبلیو ہوتی ہے؛ حقیقت میں ایم سی سی قانون 36 میں پچنگ، امپیکٹ، گیند کی سمت، بلے سے رابطہ اور بیٹر کے شاٹ کا ارادہ الگ الگ جانچا جاتا ہے۔ اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو، بیٹر نے بلے سے کھیلنے کی حقیقی کوشش کی ہو اور امپیکٹ آف اسٹمپ سے باہر ہو، تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں بنتی۔ 2026 میں ڈی آر ایس کے ہاک آئی اور بال ٹریکنگ فیصلے کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر اپیل کو پہلے پچنگ، پھر امپیکٹ، آخر میں وکٹ کے نتیجے سے پرکھیں۔

An umpire raising one finger during an intense Pakistan cricket match under bright stadium lights

وکٹ ٹریک پر ایل بی ڈبلیو کے ساتھ میچ ریویو، کھلاڑیوں کے اعدادوشمار، پی ایس ایل کوریج اور بیٹنگ و باؤلنگ حکمت عملی بھی باقاعدگی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے بنیادی موازنہ ذہن میں بٹھائیں، کیونکہ جذباتی اپیل اور قانونی فیصلہ ایک چیز نہیں ہوتے۔

تفصیل سے سمجھنے کے لیے یہ مختصر رہنمائی دیکھیں۔

مزید جانیں

فوری موازنہ: ایل بی ڈبلیو کے تین فیصلے کیسے الگ ہیں؟

مرحلہ امپائر کا بنیادی سوال عام نتیجہ
پچنگ گیند کہاں ٹپہ کھا کر آئی؟ لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ عموماً ایل بی ڈبلیو ختم کرتی ہے
امپیکٹ جسم سے ٹکرانے کے وقت گیند کہاں تھی؟ شاٹ نہ کھیلنے پر آف اسٹمپ کے باہر امپیکٹ بھی قابلِ قبول ہو سکتا ہے
وکٹ کا راستہ کیا گیند اسٹمپ سے ٹکراتی؟ گیند کا متوقع راستہ اسٹمپ کو چھونا ضروری ہے

یہ جدول صرف خلاصہ ہے؛ اصل فیصلہ تینوں مرحلوں کے ملاپ سے بنتا ہے۔ ایم سی سی کے قانون 36 کے مطابق گیند کا بیٹر کے جسم سے لگنا کافی نہیں، کیونکہ رابطہ ایسی جگہ ہونا چاہیے جہاں سے گیند وکٹ کو لگنے کا امکان ہو۔ مزید یہ کہ اگر گیند پہلے بیٹر کے بلے، یا بلے پکڑنے والے ہاتھ سے لگ جائے، تو ایل بی ڈبلیو کا دعویٰ ختم ہو جاتا ہے؛ یہ نکتہ ٹی وی ری پلے میں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ایم سی سی قوانینِ کرکٹ میں قانون 36 اسی ترتیب کو بیان کرتا ہے، جبکہ آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط مقابلے کے مطابق ڈی آر ایس اور امپائرنگ طریقہ کار واضح کرتے ہیں۔ اسی لیے اپیل سے پہلے پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ کو الگ خانوں میں لکھنا عملی طور پر زیادہ درست ہے۔

کرکٹ میں ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی مکمل وضاحت

پہلا مرحلہ: گیند کہاں پچ ہوئی؟

گیند اگر بیٹر کے جسم سے لگنے سے پہلے لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی ہو، تو عام صورت میں ایل بی ڈبلیو نہیں دی جا سکتی؛ یہ پچنگ کی سب سے اہم حد ہے۔ تاہم آف اسٹمپ کے باہر، آف اسٹمپ پر، یا مڈل اور لیگ اسٹمپ کے درمیان پچ ہونے والی گیند اگلے مراحل کے لیے اہل رہتی ہے، بشرطیکہ باقی شرائط بھی پوری ہوں۔ قانون میں “لیگ سائیڈ کے باہر پچنگ” اور “بیٹر کے پیچھے جسم سے رابطہ” دو الگ باتیں ہیں؛ ایک درست پچنگ کے باوجود غلط امپیکٹ یا بلے سے پہلے رابطہ اپیل کو ناکام بنا سکتا ہے۔

پہلے گیند کا ابتدائی ٹپہ دیکھیں، نہ کہ وہ مقام جہاں گیند پیڈ سے ٹکرائی۔ اسپنرز کے خلاف یہ فرق مزید اہم ہوتا ہے، کیونکہ گیند پچ کے بعد زاویہ بدل سکتی ہے اور بیٹر کو محسوس ہو سکتا ہے کہ رابطہ لیگ اسٹمپ کے قریب تھا، حالانکہ اصل پچنگ لیگ اسٹمپ کے باہر ہوئی تھی۔ ہاک آئی عموماً پچنگ زون کو رنگوں سے دکھاتا ہے، مگر اس گرافک کو حتمی حقیقت سمجھنا درست نہیں؛ ڈی آر ایس میں “امپائرز کال” کی گنجائش بھی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر پاکستان، بھارت، انگلینڈ یا آسٹریلیا کے میچ میں ایک ہی اصول لاگو ہوتا ہے، لیکن نشریاتی گرافکس اور دستیاب ٹیکنالوجی مختلف ہو سکتی ہے۔

  • لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ: عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • آف اسٹمپ کے باہر پچنگ: اگلے دو مراحل دیکھے جائیں گے۔
  • اسٹمپ کی لائن میں پچنگ: ایل بی ڈبلیو کا امکان برقرار۔
  • نو بال: ایل بی ڈبلیو نہیں، چاہے گیند وکٹ کو نشانہ بناتی ہو۔

Cricket pitch close-up showing a red ball landing near leg stump beside sharply painted crease lines

پچنگ کے بعد امپیکٹ کا فیصلہ آتا ہے، اور یہی وہ حصہ ہے جہاں شاٹ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا فرق سامنے آتا ہے۔ کرکٹ میں نو بال اور فری ہٹ کے قواعد

دوسرا مرحلہ: امپیکٹ اور بیٹر کا شاٹ کیوں فیصلہ بدلتے ہیں؟

امپیکٹ سے مراد وہ مقام ہے جہاں گیند بیٹر کے جسم سے ٹکراتی ہے، اور ایل بی ڈبلیو میں اس کا جائزہ بیٹر کے شاٹ کے ارادے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اگر بیٹر نے بلے سے گیند کھیلنے کی حقیقی کوشش نہیں کی، تو آف اسٹمپ کے باہر امپیکٹ بھی ایل بی ڈبلیو بن سکتا ہے؛ لیکن اگر اس نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی، تو امپیکٹ عموماً آف اسٹمپ کی لائن میں یا اس کے اندر ہونا ضروری ہے۔ صرف بیٹر کا کہنا کہ وہ گیند چھوڑ رہا تھا فیصلہ نہیں بناتا؛ امپائر قدموں، بلے کی حرکت اور شاٹ کی نوعیت دیکھتا ہے۔

یہاں ایک باریک مگر عملی نکتہ ہے: “شاٹ کھیلنے کی کوشش” کا مطلب صرف مکمل فرنٹ فٹ ڈرائیو نہیں۔ دفاعی بلاک، پیڈل، سوئپ، ریورس سوئپ یا بلے کو جان بوجھ کر گیند کی طرف لانا بھی کوشش شمار ہو سکتی ہے، چاہے رابطہ نہ بنے۔ دوسری طرف، اگر بیٹر بلے کو جسم کے پیچھے رکھ کر گیند روکنے کی کوشش کرے، تو ویڈیو امپائر کو شاٹ کے ارادے کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ آئی سی سی کے ڈی آر ایس طریقہ کار میں اسی لیے امپائر کا ابتدائی فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے جب بال ٹریکنگ کا نتیجہ سرحدی ہو۔

  1. بیٹر نے بلے سے کھیلنے کی کوشش کی یا نہیں؟
  2. گیند جسم سے لگتے وقت آف اسٹمپ کے کس حصے کے سامنے تھی؟
  3. رابطہ گھٹنے، پیڈ، ران یا جسم کے کسی دوسرے حصے پر کہاں ہوا؟
  4. کیا پچنگ اور باقی قانونی شرائط پہلے ہی پوری تھیں؟

یہاں جذباتی اپیل سب سے زیادہ گمراہ کرتی ہے؛ زور دار آواز، جھکا ہوا پیڈ اور سیدھی گیند الگ الگ ثبوت ہیں۔ درست جائزہ ہمیشہ ترتیب کے ساتھ کریں۔

اب اس فیصلے کے آخری حصے، یعنی گیند کے متوقع راستے، کو بھی سمجھ لینا ضروری ہے۔

قانونی تفصیل دیکھیں

تیسرا مرحلہ: کیا گیند واقعی وکٹ کو لگتی؟

ایل بی ڈبلیو کے لیے امپائر کو مطمئن ہونا ہوتا ہے کہ گیند بیٹر کے جسم سے نہ ٹکراتی تو وکٹ سے جا لگتی۔ اس متوقع راستے کا اندازہ گیند کی رفتار، سوئنگ، اسپن، پچنگ، بیٹر کی پوزیشن اور رابطے کے مقام سے لگایا جاتا ہے۔ اگر بال ٹریکنگ گیند کو اسٹمپ کے کنارے پر دکھائے، تو فیصلہ ہمیشہ مکمل طور پر ٹیکنالوجی کے ہاتھ میں نہیں جاتا؛ بعض صورتوں میں امپائرز کال لاگو ہوتی ہے اور آن فیلڈ فیصلہ برقرار رہتا ہے۔

اس حصے میں دو مخصوص غلطیاں بار بار سامنے آتی ہیں۔ پہلی، بیٹر کا پیڈ اسٹمپ کے سامنے دکھائی دے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ وکٹ لازماً ہٹتی، حالانکہ گیند کا زاویہ بیٹر کے جسم کے بعد بدلتا نہیں؛ بال ٹریکنگ جسم سے پہلے کی رفتار کو آگے بڑھا کر نتیجہ دکھاتی ہے۔ دوسری، بیٹر کا اگلا پاؤں کریز سے باہر ہو تو ایل بی ڈبلیو خودکار طور پر ختم نہیں ہوتی؛ پاؤں کی جگہ صرف اس وقت متعلقہ ہے جب وہ گیند کے پچنگ اور امپیکٹ کے قانونی زون کو متاثر کرے۔

ہاک آئی، آئی سی سی کے ڈی آر ایس اور ٹی وی ری پلے کو اس ترتیب سے پڑھیں:

  • پہلے پچنگ کا رنگ یا زون دیکھیں۔
  • پھر امپیکٹ کا مقام دیکھیں۔
  • آخر میں “وکٹ ہٹ” یا “وکٹ مس” نتیجہ دیکھیں۔
  • اگر نتیجہ سرحدی ہو تو امپائرز کال کی علامت تلاش کریں۔
  • نو بال کا اشارہ ہو تو ایل بی ڈبلیو ختم سمجھیں۔

Television review screen displaying LBW ball tracking during an evening Test match at Lord’s Cricket Ground

لارڈز، دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم اور لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ٹیکنالوجی کی اسکرین مختلف انداز میں دکھائی دے سکتی ہے، مگر قانون ایک ہی رہتا ہے۔ ڈی آر ایس میں امپائرز کال کیسے کام کرتی ہے؟

حتمی اسکور: کس صورت میں ایل بی ڈبلیو مانیں؟

حتمی فیصلہ تب ہی مکمل ہوتا ہے جب نو بال نہ ہو، گیند پہلے بلے سے نہ لگی ہو، پچنگ لیگ اسٹمپ کے باہر نہ ہوئی ہو، امپیکٹ قانون کے مطابق ہو، اور گیند وکٹ کو لگتی دکھائی دے۔ ان شرائط میں سے ایک بھی بنیادی شرط ناکام ہو جائے تو ایل بی ڈبلیو نہیں بنتی، چاہے پیڈ پر آواز کتنی ہی صاف کیوں نہ آئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تجربہ کار امپائر پہلے اپیل کی شدت نہیں بلکہ گیند کی مکمل کہانی دیکھتا ہے۔

عملی طور پر بیٹر، بولر اور ناظر تین مختلف ترجیحات رکھیں۔ بیٹر کو فرنٹ پیڈ کی سمت، بلے اور پیڈ کے درمیان فاصلہ، اور شاٹ کے ارادے پر توجہ دینی چاہیے؛ بولر کو زاویہ، لائن اور پچنگ پر؛ ناظر کو ری پلے کے تین مراحل پر۔ وکٹ ٹریک کے تجزیوں میں پاکستان، پی ایس ایل، آئی سی سی اور ایم سی سی کے حوالوں کو ساتھ رکھنا اسی لیے مفید ہے کہ ایک مختصر کلپ اکثر مکمل قانونی تصویر نہیں دکھاتا۔ یقین کریں یا نہ کریں — ایل بی ڈبلیو کا بہترین فیصلہ وہ ہے جو شور کم اور ترتیب زیادہ رکھتا ہو۔

فیصلہ کرنے کی مختصر فہرست

  • نو بال ہے؟ اگر ہاں، ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • گیند پہلے بلے یا بلے والے ہاتھ سے لگی؟ اگر ہاں، ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی؟ عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں۔
  • بیٹر نے شاٹ کھیلا؟ امپیکٹ کی آف اسٹمپ لائن دیکھیں۔
  • گیند وکٹ کو لگتی؟ بال ٹریکنگ اور امپائرز کال دیکھیں۔

اب قانون سمجھنے کے بعد میچ کے فیصلوں کو اسی پانچ نکاتی ترتیب سے جانچیں۔

مزید کرکٹ بصیرت پڑھیں

اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: ایل بی ڈبلیو قانون کیا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو قانون 36 اس وقت بیٹر کو آؤٹ قرار دیتا ہے جب نو بال نہ ہو، گیند پہلے بلے سے نہ لگی ہو، جسم سے رابطے کے بعد گیند وکٹ کو لگتی، اور پچنگ و امپیکٹ کی شرائط پوری ہوں۔ گیند کا لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونا عام طور پر ایل بی ڈبلیو کو ختم کرتا ہے۔ اگر بیٹر نے شاٹ نہیں کھیلا تو آف اسٹمپ کے باہر امپیکٹ بھی قابلِ قبول ہو سکتا ہے، مگر پچنگ اور وکٹ کا راستہ پھر بھی درست ہونا ضروری ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو کیسے چیک کی جاتی ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو کو پہلے نو بال، پھر پچنگ، پھر امپیکٹ اور آخر میں وکٹ کے متوقع راستے سے چیک کریں۔ امپائر یا ڈی آر ایس یہ دیکھتا ہے کہ گیند پہلے بلے سے لگی یا نہیں اور بیٹر نے حقیقی شاٹ کھیلا یا نہیں۔ ٹی وی ری پلے میں پچنگ زون، امپیکٹ فریم اور بال ٹریکنگ کو الگ الگ دیکھیں؛ صرف آخری گرافک پر فیصلہ نہ کریں۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: بولڈ میں گیند بیٹر کے جسم یا بلے سے بچ کر براہِ راست وکٹ کو گرا دیتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں گیند جسم سے لگنے کے بعد متوقع طور پر وکٹ کو لگتی۔ بولڈ کے لیے پچنگ اور امپیکٹ کی وہ پابندیاں نہیں جو ایل بی ڈبلیو میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند ایل بی ڈبلیو نہ دے، مگر مناسب زاویے سے وکٹ گرا دے تو بولڈ ہو سکتی ہے۔

سوال: اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو تو ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں ہوتی؟

جواب: لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں بنتی، کیونکہ قانون 36 اس پچنگ زون کو خارج کرتا ہے۔ یہ پابندی اس لیے ہے کہ بیٹر کو بہت باہر جاتی گیند پر غیر منصفانہ طور پر پیڈ سے آؤٹ نہ کیا جائے۔ تاہم وہی گیند بیٹر کو چھوئے بغیر اسٹمپ گرا دے تو بولڈ، یا بلے سے لگ کر کیچ بن جائے تو کیچ آؤٹ ہو سکتی ہے۔

سوال: شاٹ کھیلنے اور شاٹ نہ کھیلنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟

جواب: شاٹ کھیلنے کی کوشش کی صورت میں آف اسٹمپ کے باہر امپیکٹ عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں دیتی، جبکہ شاٹ نہ کھیلنے پر وہی امپیکٹ قابلِ قبول ہو سکتی ہے۔ امپائر بلے کی حرکت، بیٹر کے جسمانی توازن اور شاٹ کی نوعیت دیکھتا ہے، صرف بیٹر کے بیان پر انحصار نہیں کرتا۔ سوئپ، دفاعی بلاک اور پیڈل بھی حقیقی شاٹ کی کوشش شمار ہو سکتے ہیں اگر بلے کو گیند کی طرف لایا گیا ہو۔

سوال: امپائرز کال میں ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ کیوں برقرار رہتا ہے؟

جواب: امپائرز کال اس وقت آ سکتی ہے جب بال ٹریکنگ کا نتیجہ سرحدی ہو اور گیند کا کچھ حصہ اسٹمپ سے ٹکرانے کے امکان میں ہو۔ ڈی آر ایس ایسے معاملے میں آن فیلڈ امپائر کے ابتدائی فیصلے کو برقرار رکھتا ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کا مقصد واضح غلطی درست کرنا ہے، ہر معمولی امکان کو قطعی فیصلہ بنانا نہیں۔ اسی لیے ریویو ضائع ہو سکتا ہے، مگر امپائرز کال کی صورت میں ٹیم کو لازماً مکمل غلطی نہیں سمجھنا چاہیے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اپیل میں بیٹر کو فوری طور پر کیا کرنا چاہیے؟

جواب: بیٹر کو پہلے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ پیڈ پر گیند لگنا خودکار آؤٹ نہیں ہے۔ شاٹ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ کے راستے کو ذہن میں رکھیں، پھر امپائر کے فیصلے کے خلاف مقررہ وقت میں ریویو لیں۔ ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ میں ریویو کی تعداد اور عملی طریقہ مقابلے کے ضوابط کے مطابق بدل سکتا ہے، اس لیے آئی سی سی کی متعلقہ کھیلنے کی شرائط دیکھنا بہتر ہے۔

اختتامی طور پر، ایل بی ڈبلیو کو یاد رکھنے کا سب سے مضبوط فارمولا یہی ہے: نو بال، بلے سے پہلا رابطہ، پچنگ، امپیکٹ، پھر وکٹ۔ اس ترتیب سے فیصلہ کریں تو پی ایس ایل کے شور، پاکستان کے بڑے مقابلے یا لارڈز کے خاموش ریویو روم میں بھی قانون واضح رہتا ہے۔

وکٹ ٹریک ملاحظہ کریں

وکٹ ٹریک · Latest Insights